ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ای وی ایم کے خلاف تحریک چھیڑنے ممتا کا اعلان، بی جے پی کی شاندار جیت عوام کے ووٹوں کی وجہ سے نہیں، ای وی ایم میں چھیڑخانی سے ہوئی ہے

ای وی ایم کے خلاف تحریک چھیڑنے ممتا کا اعلان، بی جے پی کی شاندار جیت عوام کے ووٹوں کی وجہ سے نہیں، ای وی ایم میں چھیڑخانی سے ہوئی ہے

Tue, 04 Jun 2019 10:08:21    S.O. News Service

 نئی دہلی،4/مئی (ایس او نیوز/ایجنسی) لوک سبھا انتخابات سے قبل اور بعد اپوزیشن پارٹیوں میں بنگال کی ترنمول کانگریس ایسی پارٹی ہے جس نے بی جے پی اور ہندو تو اتنظیموں کے دانٹ کھٹے کردئے ہیں۔ مودی کی قیادت والی بی جے پی حکومت سے راست لڑائی کرنے والی مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ہر محاذ پر نہ صرف یہ کہ مودی پر لفظی حملہ کیا بلکہ ان پر مغربی بنگال میں تشدد برپا کرنے کا بھی الزام لگایا۔

 جئے شری رام نعرہ کے جواب میں ممتا بنرجی نے ’جئے ہند‘ اور ’جئے بنگال‘ کا نعرہ دے کر جہاں ایک طرف بنگالیوں کو اپنی جانب متوجہکرنے کی کوشش کی وہیں مرکز کو یہ پیغام بھی دے دیا کہ اسے کسی نعرہ سے بیر نہیں ہے بلکہ تشدداور فساد پھیلانے والے نعرہ سے اس دشمنی ہے۔ ایک قدم اور آگے بڑھتے ہوئے ممتا بنرجی نے اب مودی کی جیت پر ہی سوالیہ نشان لگایا ہے۔

 انہوں نے تمام اپوزیشن پارٹیوں سے اپیل کی کہ وہ وقت سے قبل ہی بی جے پی کے خلاف متحد ہوجائیں اور ای وی ایم مشینوں کو درکنار کر کے بیلٹ پیپروں کے ذریعہ ووٹنگ کے لئے آواز بلند کریں اوراس کے ساتھ ہی ای وی ایم سے جڑی دیگر جانچ کے لئے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی تشکیل بھی ہو۔ حالیہ لوک سبھا انتخابات میں ترنمول کانگریس کی شکست کا جائزہ لینے کیلئے پارٹی لیڈروں کے ساتھ میٹنگ کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے ممتابنرجی نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ بیلٹ پیپر پر ووٹنگ کو واپس لایاجائے اور ای وی ایم مشین نہیں چاہتے ہیں۔ جمہوریت کو بچانے کیلئے ضروری ہے کہ بیلٹ پیپر کو واپس لا یا جائے۔ لوک سبھا انتخابات کے دوران اپوزیشن جماعتیں ای وی ایم مشین کی معتربیت پر سوال اٹھاتی رہی ہیں مگر ممتا بنرجی ہندوستان کی پہلی ایسی سیاست داں ہیں جنہوں نے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کی جیت پر سوالیہ نشان لگایا ہے ممتابنرجی نے کہا کہ تمام اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کرہم ملک بھر میں ای وی ایم مشین کے خلاف مہم چلائیں گے۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ امریکہ نے بھی ای وی ایم مشین سے دوری بنالی ہے۔صرف دو فیصد مشین کاویری فیکیشن کیا گیا ہے۔98فیصد مشین کی جانچ نہیں ہوتی۔ ممتا بنرجی نے ای وی ایم مشین پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے کہا کہ جو مشین کام نہیں کرتی ہے اس کو تبدیل کردیا جاتا ہے ایسے میں منصفانہ انتخابات ہونے کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ ایک لاکھ مشین غائب ہیں۔ ای وی ایم مشین عوام کا فیصلہ نہیں ہے۔ 

دوسری جانب ترنمول کانگریس اور بی جے پی کے درمیان ”جے شری رام“ کے نعرے کو لے کر جاری تنازع کے درمیان وزیراعلیٰ ممتابنرجی نے بی جے پی پر الزام عائد کیا ہے جے شری رام کے نعرے کے نام پر جہاں بی جے پی سیاست کررہی ہے وہیں بی جے پی نے ”ستیا ماں“ کے نام کو درکنا کردیا ہے۔ پہلے یہ نعرہ ”جے سیارام“ ہوتا تھا۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ اترپردیش میں ”جے سیارام“ کے نعرے لگائے جاتے تھے، اس نعرے سے بھگوان رام سیتا دونوں کی عظمت کو بیان کیا جاتا تھا مگر بی جے پی رام کو سیاسی آلہ کے طور پر استعمال کررہی ہے۔ 

ریاستی سکریٹری نوبنو میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے ممتابنرجی نے کہا کہ ”جب مہاتما گاندھی“ رام دھون گاتے تو اس وقت کہتے تھے ”رگھوپتی راگھو راجا رام، پتی تا پاون سیتارام“ مگر بی جے پی والوں نے سیتا کا نام خارج کردیا ہے۔ پرانے نعرے کو ختم کر کے ایک نیا نعرہ گڑھا جارہا ہے۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ ہندوستان میں مختلف مذاہب کے اپنے اپنے نعرے ہیں۔ ہم سب کا احترام کرتے ہیں۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ کچھ لوگ بی جے پی کے نعرے کے ساتھ جاسکتے ہیں مگر ہم ایسا نہیں کرسکتے ہیں ہم مذہبی کتابوں پر یقین کرنے والے ہیں۔ 

خیال رہے کہ بنگال میں جے شری رام کے نعرے کو لے کر تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ بی جے پی والوں کے ممتا بنرجی کے قافلے میں گھر کر ”جے شر ی رام“ کے نعرے لگانے پر وزیر اعلیٰ نے سخت ناراضی ظاہر کی ہے۔ 

دریں اثناء بی جے پی اور ترنمول کانگریس کے درمیان ”جے شری رام“ کے نعرے پر جاری تنازع کے دوران وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے اپنے فیس بک اور ٹوئیڑاکاؤنٹ کا ڈسپلے پکچر (ڈی پی) تبدیل کرتے ہوئے ”جے ہند“ اور ”جے بنگلہ“ کردیا ہے۔ اس قبل بی جے پی کے ممبر پارلیمنٹ ارجن سنگھ نے، جو ترنمول کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہوئے ہیں، اعلان کیا ہے کہ دس لاکھ افراد ممتابنرجی کو ”جے شری رام“ کے نعرے لکھ کر پوسٹ کارڈ بھیجیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگروہ دس افرادکو جے شری رام کے نعرے لگانے پر جیل بھیج سکتی ہیں تو دیکھتے ہیں وہ دس ہزار افراد کے ساتھ کیا کرتی ہیں۔ اس کے جواب میں شمالی 24پرگنہ ترنمول کانگریس کے صدر اور ریاستی وزیر جیوتری پریہ ملک نے وزیر اعظم کے دفتر کے پتے پر 20لاکھ پوسٹ کارڈ جے ہند اور جے بنگلہ کے نام پر بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ممتا بنرجی نے فیس بک پر مہا تما گاندھی، نتیاجی سبھاش چندر بوس، بھگت سنگھ، ماتنگی ہزارا، نوبل انعام یافتہ رابندر ناتھ ٹیگور اور قاضی نذر الاسلام کی تصویری بھی لگائی ہیں۔ ممتا بنرجی کے ڈی پی میں 19ویں صدر کے بنگالی فلا سفر ایشور چندر ودیا ساگر، راجارام موہن رائے، مذہبی رہنما سوامی وویکا نند اور ہندوستانی آئین کے خالق بی آر امبیڈ کر کی تصویر یں بھی اس کا حصہ ہیں۔

 خیال رہے کہ بی جے پی کے قومی صدر اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے روڈ شو کے دوران کولکتہ میں ودیا ساگر کالج میں نصب ودیا ساگر کے مجسمے کو بی جے پی مبینہ ورکروں نے توڑدیا تھا۔ اس وقت بھی ممتا بنرجی اور ترنمول کانگریس کے بیشتر سیاسی لیڈروں نے فیس بک اور ٹوئیٹر پر و فائل تصور کی جگہ ودیا ساگر کی تصویر کو لگادیا تھا۔ اس سے قبل ممتابنرجی نے ”جے شری رام“ کے نعرے سے متعلق فیس بک پر تبصر ہ کرتے ہوئے لکھا کہ ہم ان مذہبی نعروں کے خلاف نہیں ہیں، ہم لوگوں کے جذبات کا احترام کرتے ہیں مگر بی جے پی مذہبی نعرے کو سیاسی فوائد کیلئے استعمال کررہی ہے۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ بنگال کبھی بھی ”آر ایس ایس کے اشارے پر مذہبی نعروں کے سیاسی استعمال کو قبول نہیں کرے گا۔ یہ غنڈہ گردی اور تشدد کے ذریعہ اپنے سیاسی نظریات کو تھوپنا ہے۔ ممتابنرجی نے ”جے شری رام“ کے نعرے پر جاری سیاست پروضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ”ہمیں کسی بھی مخصوص نعرے سے کوئی پریشانی نہیں ہے۔ 


Share: